بنگلورو،28؍دسمبر(ایس او نیوز)کورونا وائرس سے بچنے کے لئے ملک اوربیرون ممالک کی طرف سے جو ویکسین بنایا جا رہا ہے اس کے منظر عام پر آنے اور عوامی استعمال سے پہلے ہی اس کو لے کر ہمہ قسم کے تنازعات سامنے آرہے ہیں۔ ایک طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ انسانی جان بچانے کے مقصد کو سامنے رکھ کر تیار کی گئی اس دوا کے عناصر میں کیا شامل ہے اس پر بحث اس وقت تک ضروری نہیں جب تک کہ اس کا کوئی اور متبادل نہ ہو تو دوسری طرف ایک طبقہ کی طرف سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اس دوا کی تیاری میں جن عناصر کا استعمال ہو رہا ہے اس کی وجہ سے اس ویکسین کا استعمال حرام ہے۔ اس سلسلہ میں علمائے کرام کی طرف سے مختلف قسم کی رائے سامنے آرہی ہے۔ شہر بنگلورو کے ممتاز علمائے کرام نے بھی اس بارے میں اپنے خیالات پیش کئے ہیں۔ ان علمائے کرام نے کہا ہے کہ بین الاقوامی اور قومی سطح کی کمپنیوں کی طرف سے اس ویکسین کی تیاری کے لئے کام جاری ہے اور وہ جانچ کے مختلف مراحل میں ہے۔ حکومت ہند کی طرف سے بھی باضابطہ یہ اعلان نہیں ہوا ہے کہ کورونا سے بچنے کے لئے مقررہ ویکسین کو استعمال کیا جانا چاہئے اس سے پہلے اس ویکسین کے بارے میں حقائق سے واقفیت حاصل کئے بغیر کوئی بھی رائے قائم کرنا درست نہیں ہے۔
مولانا صغیر احمد خان رشادی: امیر شریعت کرناٹک مولانا صغیر احمد خان رشادی نے اس سلسلہ میں کہا کہ کوروناسے بچنے کے لئے ویکسین کو دنیا اور ملک بھر کی کئی کمپنیاں تیار کر رہی ہیں اس کی تیاری میں کیا استعمال ہو رہا ہے اس کے بارے میں اب تک کچھ بھی سامنے نہیں آیا ہے۔ حکومت کی طرف سے بھی ویکسین کا باضابطہ اعلان نہیں ہوا۔ ایسی صورت میں اس ویکسین کے استعمال کی اجازت یا ممانعت کے بارے میں کچھ بھی کہنا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان پہلے ہی بہت سارے مسائل سے گھرے ہوئے ہیں ایسے میں کوئی بیان ان کے لئے نئے مسئلہ کا سبب نہ بنے اس کا خیال ہر کسی کو رکھنا ضروری ہے۔ اس ویکسین کو لے کر کسی تحقیق کے بغیر بیان بازی سے معاشرے میں انتشار برپا کرنے سے گریز کرنے کی ضرورت پر انہوں نے زور دیا۔
مولانا مقصود عمران رشادی: خطیب وامام جامع مسجد بنگلور و سٹی مولانا مقصود عمران رشادی نے کہا کہ سوشیل میڈیا کے مختلف حلقوں میں یہ خبریں گشت کر رہی ہیں کہ کووڈ سے بچنے کے لئے دواؤں کی کمپنیوں نے جو ویکسین بنایا ہے اس کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ اس میں خنزیر کی چربی استعمال کی گئی ہے۔ ایسے مرحلہ میں جبکہ روس، جرمنی، متحدہ عرب امارات، چین اور برطانیہ میں الگ الگ ویکسین تیار ہو رہی ہے۔ ہندوستان میں بھی متعدد لیباریٹریوں میں اس پر تحقیق اور ترویج جاری ہے۔ عالمی صحت تنظیم کے اشتراک سے اس پر کام ہو رہا ہے۔اس کے منظر عام پر آنے سے پہلے ہی اس کے بارے میں نتیجہ اخذ کرلینا جلد بازی ہو گی۔ سرکاری طور پر اب تک یہ اعلان ہوا نہیں ہے کہ کونسی ویکسین کورونا سے بچنے کے لئے مفید ہے اس سے پہلے ہی اسے لے کر تنازعہ کھڑا کرنا درست نہیں۔
مولانا ذوالفقار رضانوری: جامعہ حضرت بلال ؓ کے مہتمم اورمسجد بلال ؓ کے خطیب وامام مولانا ذوالفقار رضانوری نے اس مسئلہ پر در مختار کے حوالے سے کہا ہے کہ جو شبہات ظاہر کئے گئے ہیں وہ محض شبہات ہیں اور ان کی بنیاد پر کسی چیز کو ناپاک یا حرام قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کورونا وائرس ایک خطرناک بیماری ہے جس سے کثرت کے ساتھ انسانیت ہلاک ہو چکی ہے۔ اب اگرماہرین نے ویکسین کی تیار کی ہے جس سے غالب گمان ہو کہ اس کے استعمال سے انسان کورونا جیسی خطرناک بیماری سے نجات پا سکتا ہے تو اگر یقین سے بھی معلوم ہو کہ اس میں خنزیر یا کسی دوسری حرام شئے کے جز ڈالے گئے ہوہیں، بطور ویکسین اس کا استعمال مسلمانوں کے لئے جائز ہو گا۔ مسلمان اسے استعمال کر سکتے ہیں۔
مولانا اعجاز احمد ندوی: آل انڈیا ملی کونسل کرناٹک کے سابق صدر مولانا اعجاز احمد ندوی نے کہا ہے کہ کورونا ویکسین کے بارے میں سوشیل میڈیا میں جو باتیں گشت کر رہی ہیں ان کے حقیقت کے بارے میں کوئی تصدیق نہیں ہے۔ حکومت کی طرف سے بھی اب تک باضابطہ یہ اعلان نہیں ہوا ہے اس لئے اس کے بارے میں قبل از وقت رائے پیش کردینا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو چیزیں ویکسین کے متعلق سامنے آ رہی ہیں ان میں کتنی سچائی ہے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ چونکہ حالات انتہائی حساس ہیں اس لئے بے وجہ تنازعہ کھڑا کرکے ملت کو پریشان کرنا درست نہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وباء پوری انسانیت کے لئے مصیبت بن کر آئی ہے اس سے انسانیت کو بچانے کے لئے دوا تیار ہو رہی ہے اس کے استعمال کو لے کر بھی معلومات کے بغیر ہی تنازعہ کھڑا کرنا درست نہیں۔ ایسے میں جبکہ کسی بھی ملک میں یہ ویکسین عوامی استعمال کے لئے منظر عام پر نہیں آئی ہے اس میں شامل عناصر نے بارے میں تبصرہ درست نہیں۔
مولانا شبیر ندوی: مہتمم، مدرسہ اصلاح البنات مولانا شبیر ندوی نے کہا ہے کہ برطانیہ کے ڈاکٹرو ں کی طرف سے صاف طور پر واضح کیا گیا ہے کہ اس ملک میں جو کووڈ ویکسین استعمال کیا جا رہا ہے اس کی تیاری میں خنزیر کی چربی یا ایسے کسی عنصر کا استعمال نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وباء سے بچنے کے لئے تیار اس ویکسین کی الگ الگ اقسام سامنے آرہی ہیں اس لئے صرف ایک نظریے کو سامنے رکھ کر دیکھنے کی بجائے مختلف امکانات پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔